دیار غیر

قسم کلام: اسم ظرف مکاں

معنی

١ - دوسرا ملک، انجان جگہ، پردیس۔ "میں نے شادی بھی وہیں ایک نیک بخت سے کرلی تھی، جس نے اور بھی پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی تھیں اور میں ہمیشہ کے لیے دیار غیر کا ہوکے رہ گیا تھا۔"      ( ١٩٨٣ء، گوندنی والا تکیہ، ١٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ مرکب توصیفی ہے۔ اسم مشتق 'دیار' بطور موصوف اور ثلاثی مجرد کے باب سے اسم مشتق 'غیر' بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٨٣ء کو "گوندنی والا تکیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دوسرا ملک، انجان جگہ، پردیس۔ "میں نے شادی بھی وہیں ایک نیک بخت سے کرلی تھی، جس نے اور بھی پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی تھیں اور میں ہمیشہ کے لیے دیار غیر کا ہوکے رہ گیا تھا۔"      ( ١٩٨٣ء، گوندنی والا تکیہ، ١٢ )

جنس: مذکر